En

2025 میں پاکستان کی چین کو کٹلری کی برآمدات میں 5 فیصد اضافہ

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 5, 2026

بیجنگ (چائنا اکنامک نیٹ) گزشتہ سال 2025 میں پاکستان کی چین کو بیس میٹل سے تیار کردہ اوزار، آلات، کٹلری اور متعلقہ اشیا کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافی ریکارڈ کیا گیا اور ان کا حجم 8.14 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2024 میں 7.76 ملین ڈالر تھا۔ اس طرح سالانہ بنیادوں پر تقریباً 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 
  

عوامی جمہوریہ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کے مطابق ہینڈ ٹولز برآمدی فہرست میں سرفہرست رہے، جن میں پلائر، پنسر، چمٹیاں اور اسی نوعیت کے دیگر اوزار نمایاں مصنوعات کے طور پر سامنے آئے۔ ان اشیا کی برآمدات 2024 میں 2.97 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 3.72 ملین ڈالر ہو گئیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ صوبہ ژیجیانگ سے مضبوط طلب رہی، جو سب سے بڑی منڈی کے طور پر ابھرا، جہاں درآمد شدہ مواد کے ساتھ پروسیسنگ کے تحت 1.78 ملین ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ یہ امر چین کی مینوفیکچرنگ سپلائی چینز میں پاکستان کے انضمام کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے بعد شنگھائی اور گوانگ ڈونگ کا نمبر رہا، جہاں عام اور پروسیسنگ تجارت دونوں چینلز کے ذریعے برآمدات کی گئیں۔

قینچیاں اور قینچ دوسرے نمبر پر رہیں، جن کی برآمدات 2025 میں تقریباً 1.90 ملین ڈالر رہیں، جبکہ بڑی کھیپیں شنگھائی اور ژیجیانگ بھیجی گئیں۔ سیفٹی ریزر بلیڈز تیسرے نمبر پر رہے، جن سے تقریباً 1.34 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی، اور یہ زیادہ تر سنکیانگ اور ژیجیانگ کو فراہم کیے گئے۔

پاکستانی برآمدکنندہ فیصل شہزاد نے چائنہ اکنامک نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرآباد کی کٹلری صنعت وہاں کے لوگوں کی محنت، مہارت اور استقامت کی عکاس ہے، جہاں روایتی تکنیکوں کو جدت کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور متعلقہ صنعتوں کو وزیرآباد منتقل کرنا برآمدات میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی مسابقتی قیمتیں، بہتر ہوتے معیار، اور ہنر مند کاریگروں کی بنیاد نے چین کی صنعتی اور صارفین کی منڈیوں میں مسلسل طلب کو سہارا دیا ہے۔ تجارتی اور صنعتی تعاون میں مزید گہرائی کے ساتھ، چین کو پاکستان کے بنیادی آلات کی برآمدات میں مستحکم نمو برقرار رہنے کی توقع ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles