چینی ٹیکنالوجی کمپنی کا پاکستان میں اسمارٹ سٹی تعاون کے امکانات کا جائزہ
لاہور(گوادر پرو)چین کی ٹیکنالوجی کمپنی بیمِنگ سافٹ ویئر (Beiming Software) کے ایک وفد نے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران اسمارٹ سٹیز اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کا جائزہ لیاجسے ابھرتی ٹیکنالوجیز میں چین–پاکستان تعاون کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران کمپنی نے اسمارٹ ٹیک ون (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے، جو حبیب رفیق انجینئرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ (ایچ آر ایل گروپ) کی ذیلی کمپنی ہے۔ اسمارٹ ٹیک ون پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں کیپیٹل اسمارٹ سٹی، لاہور اسمارٹ سٹی اور سلیکون ولیج شامل ہیں۔
معاہدے کے تحت دونوں فریق پاکستان میں اسمارٹ سٹی حل مشترکہ طور پر تیار اور نافذ کریں گے، جن کی ابتدائی توجہ کیپیٹل اسمارٹ سٹی پر ہوگی۔ اس تعاون کا مقصد انٹیلیجنٹ اربن انتظامی نظام، ڈیجیٹل گورننس پلیٹ فارمز، اسمارٹ انفراسٹرکچر اور ڈیٹا پر مبنی عوامی خدمات متعارف کرانا ہے تاکہ کارکردگی، پائیداری اور معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس معاہدے پر دستخط کی تقریب کی سربراہی میں منعقد ہوئی، جس میں بیمِنگ سافٹ ویئر اور ایچ آر ایل کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔ ان میں وانگ جیانگ پِنگ، شوئے جِنگ ہوئی اور خالد تیمور اکرم شامل تھے۔
دریں اثنا بیمِنگ سافٹ ویئر نے اسمارٹ فیوچر ٹیکنالوجیز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ بھی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے، جو ایچ آر ایل کے اسمارٹ سٹی ایکو سسٹم سے منسلک ایک اور کمپنی ہے۔ اس شراکت داری کے تحت ملک بھر میں اسمارٹ سٹی سلوشنز کے ڈیزائن، ترقی اور نفاذ پر توجہ دی جائے گی، جن میں انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسی ٹیکنالوجیز کو شامل کیا جائے گا تاکہ شہری انتظام اور عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔
1998 میں قائم ہونے والی بیمِنگ سافٹ ویئر کمپنی لمیٹڈ ایک ہائی ٹیک ادارہ ہے جو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور بلاک چین جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے اسمارٹ سٹی ترقی میں معاونت فراہم کرتی ہے۔


