En

چین پاک ماہرین کی مشترکہ تحقیق، پروبائیوٹک سے بکریوں کی صحت اور قوتِ مدافعت میں اضافہ

By Tahir Ali | Gwadar Pro Nov 7, 2025

اسلام آباد(گوادر پرو) چین اور پاکستان کے سائنسدانوں کی ایک مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بکریوں کی خوراک میں *کلوسٹریڈیم بیوٹیریکم* (Clostridium butyricum) نامی پروبائیوٹک شامل کرنے سے ان کی ہاضمے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، بغیر اس کے کہ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کیا جائے۔

یہ تحقیق چین کی اِنر منگولیا ایگریکلچرل یونیورسٹی میں کی گئی، جبکہ پاکستان میں فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی (یو اے ایف) کے پروفیسر عزیز الرحمٰن محمد نے اس کی تدوین کی۔ یہ مطالعہ 10 اکتوبر 2025 کو بین الاقوامی جریدے PLOS One میں شائع ہوا۔

سائنسدانوں نے اس پروبائیوٹک کی دو اقسام — ایک "رومین پروٹیکٹڈ" (یعنی معدے میں زیادہ دیر تک مؤثر رہنے والی) اور دوسری عام قسم — کو 24 بکریوں پر آزمایا تاکہ ان کے اثرات کو نمو، ہاضمے اور قوتِ مدافعت پر پرکھا جا سکے۔

تحقیق کے مطابق دونوں اقسام نے بکریوں کے فضلے میں مضر بیکٹیریا کی مقدار میں کمی کی، بیٹا آکسیڈیشن مصنوعات میں اضافہ کیا، مدافعتی نظام کو بہتر کیا اور جگر میں فیٹی ایسڈ کے میٹابولزم کو فروغ دیا۔”
سادہ الفاظ میں، اس پروبائیوٹک نے آنتوں میں نقصان دہ بیکٹیریا کم کیے اور توانائی و مدافعتی افعال کو سہارا دیا، اگرچہ اس سے بکریوں کی بڑھوتری کی رفتار میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

محققین کے مطابقرومین پروٹیکٹڈ *C. butyricum* معدے کے پی ایچ میں کمی کو روکتا ہے،” یعنی یہ بکریوں کے معدے کو صحت مند رکھتا ہے، جبکہ “براہِ راست *C. butyricum* کھلانے سے بکریوں کی قوتِ مدافعت میں بہتری دیکھی گئی۔”

مزید یہ کہ، “غیر محفوظ شدہ *C. butyricum* کھلانے سے IgM کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا، جو کہ مدافعتی ردعمل میں بہتری کی علامت ہے۔” IgM ایک اینٹی باڈی ہے جو جسم کو انفیکشن سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔

اگرچہ اس تحقیق میں “نمو، ہاضمے یا اینٹی آکسیڈنٹ انزائم سرگرمی” پر کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا، تاہم نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ “رومین پی ایچ کو متوازن رکھنے اور زیادہ غذائیت والی خوراک کی صورت میں گوشت کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ہے۔”

یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ *Clostridium butyricum* بکریوں کی افزائش میں اینٹی بائیوٹکس کا ایک محفوظ اور قدرتی متبادل ثابت ہو سکتا ہے، جو کسانوں کو صحت مند جانور پالنے اور بہتر معیار کا گوشت پیدا کرنے میں مدد دے گا۔

پاکستان اکنامک سروے25ـ 2024 (PES-25) کے مطابق، ملک میں بکریوں کی کل آبادی مالی سال  23ـ2022 میں 8 کروڑ 47 لاکھ سے بڑھ کر 2023–24 میں 8 کروڑ 70 لاکھ، اور25 ـ 2024 میں مزید بڑھ کر 8 کروڑ 94 لاکھ تک پہنچ گئی۔ یہ چھوٹے جانور چھوٹے کسانوں اور کم پانی والے علاقوں کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔

اسی رپورٹ کے مطابق مالی سال
25 ۔ 2024 میں بکری کے دودھ کی پیداوار 11.03 لاکھ ٹن رہی، جو گزشتہ سال (24 ـ 2023) کے 10.74 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 2.7 فیصد زیادہ ہے۔دوسری جانب، بکری اور بھیڑ کے گوشت (مٹن) کی مجموعی پیداوار مالی سال 2024–25 میں 8.35 لاکھ ٹن رہی۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles